تیل کے عروج و زوال


پٹرولیم کی جدید تاریخ اور جدت نما شکل 1846 میں تب دیکھنے کو ملی جب کوئلے سے کیروسین صاف کرنے کے عمل کو متعارف کروایا گیا۔ اس عمل کا سہرا Nova Acotian Abraham Pineo Gesner کے حصے میں آیا۔وقت کی تیزی نے انسانی دماغی خلیوں کو ایسی تحریک دی کہ اگینسی لیوکاوسی وکز نے گیسز کی ریفائنری میں اصطلاحات متعارف کروائیں۔جس سے کیروسین کی صفائی کرنے کے مراحل میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔ راک آئل کی سب سے اولین غار بوبرکا میں دریافت کی گئی۔جو  گالیشیا ( پولینڈ/ یوکرائن )کروسنو کے قریب واقع ہے۔ کنوؤں اور ذخائر کی دریافت کے بعد سائنسدان تیل کے کیمیائی اجزائے ضربی کی ترکیب اور فارمولوں کی تقسیم پہ کام کرنے شروع ہو گئے۔ 1854میں اینوہاون میں ییل یونیورسٹی کے سائنس کے ماہر پروفیسر نجمن سلی نے پٹرولیم کے اجزائے ترکیبی کو علیحدہ کرنے کا کام سر انجام دیا۔کچھ عرصہ کے بعد 1861 میں روس نے دنیا کی پہلی ریفائنری باکو کے مقام پہ نصب کی کیونکہ باکو اس وقت دنیائے عالم کی 90 فیصد تیل کی ضروریات پورے کرنے کی صلاحیتوں سے لبریز تھا۔ تیل کے ذخائر سے کمپنیوں نے تیل کی تجارت کا سوچا کہ جن علاقوں میں تیل کی پیداوار کم ہے وہاں ان کی ترسیل کو آسان بنایا جائے۔ اس لئے دنیا کو کمرشلائز کرنے کے لئے پہلی کمرشل ریفائنری 1857 میں رومانیہ کے مقام پلوسٹی پر قائم کی گئی۔ رومانیہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے خام تیل کی پیداوار بین الاقوامی سطح پہ( شماریات) جانچی گئی تھی۔ اس ریفائنری کی کل مقدار 275 ٹن تھی۔ 1858 میں تیل کا سب سے پہلا کنواں شمالی امریکہ میں Oil Springs اونٹاریو کینیڈا میں جیمز ملرولیم نے دریافت کیا تھا۔ امریکہ اس قدرتی دھاتوں کو بڑے پیمانے پہ صنعت و تجارت اور آمدن کے اثاثوں میں جلد از جلد بدلنا چاہتا تھا۔ کوئلے کی انرجی سے نجات حاصل کرنے اور آمدن کے ذرائع میں اضافے کے لئے کوشاں تھا۔ امریکہ نے پٹرولیم کی صنعت کا آغاز پنسلوانیا میں ایڈون ڈریک کے 69 فٹ تیل کے کنویں کی کھدائی سے کیا۔ یہ کنواں سینکا آئل کمپنی کے لئے کھدائی کیا گیا تھا۔ امریکن کمیونٹی آنے والے وقت اور مارکیٹ سے بخوبی آگاہ تھے جس نے آئل کو مارکیٹ کی ضرورت بنانے کے لئے ایسی اشیاء متعارف کروائی جن میں انسانی حاجتوں اور آسائشوں پہ بنیادی طور پر کام کیا گیا تاکہ انفرادی اور اجتماعی طور پہ آئل کا استعمال زیادہ ہو۔بیسویں صدی میں تیل کے لمپوں نے مارکیٹ میں تیل کی ضرورت کو ایسا بڑھایا کہ انٹرنل انجن کمبسچن نے تیل کی صنعت کو آسمان کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ اس بات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 1859 میں امریکہ 2000 بیرل  جبکہ 1906 تک یہ مقدار 126٫493٫936 بیرل تک جا پہنچی۔ 1910 میں صنعتی پیمانے پہ مختلف ممالک نے اپنی صنعتوں کو مضبوط بنا لیا تھا جن میں کینیڈا ( البرٹا) ایران میں ( 1908 مسجد سلیمان) 1863 میں زوریٹوس پیرووینزویلا اور میکسیکو سرفہرست ہیں۔ 1950 تک کوئلہ دنیا کے لئے ایندھن کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی دہائی( 1956) میں Hubbert Peak Theory نے جنم لیا جس نے امریکہ سمیت صنعتی انقلاب کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ اس تھیوری کے مطابق تیل جس طرح اپنے عروج کی طرف گامزن ہے اسی طرح اپنے زوال کے سفر کو طے کرے گا۔

تبصرے